ابنا: پُرتشدد واقعات کے نتیجے میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ مسلمانوں نے امدادی کیمپوں میں پناہ لے رکھی ہے۔ فوج کے گشت کے باوجود اب بھی کئی علاقوں میں مسلمانوں پر بوڈو قبائل کے حملے جاری ہیں۔ تشدد سے متاثرہ بیشتر علاقوں میں کرفیو نافذ ہے اور سیکورٹی فورسز کو شرپسندوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم دے دیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود کشیدگی میں کمی نہیں آئی۔ اطلاعات کے مطابق تازہ جھڑپوں میں مزید درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں اور ضلع کوکرا جھار، چرانگ، دھبری اور بونگ گئی کے مختلف گاؤں میں بوڈو قبائل نے مسلمانوں کے سیکڑوں مکانات جلا دیے۔ مسلمان ہی نہیں ہ دیگر قومیتیں بھی بوڈو قبیلے کی دہشت گردی سے تنگ ہیں۔
.......
/169